‫‫کیٹیگری‬ :
27 February 2019 - 23:21
خبر کا کوڈ: 439866
فونت
ھندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندہ:
ھندوستان میں 4 کروڑ شیعہ زندگی بسر کرتے ہیں | شیعت کے استحکام میں علمائے ھند کا کردار نمایاں ھندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندہ نے علمائے ھندوستان کے آثار اور ان کی خدمات کو بیان کرنے کی تاکید کی اور کہا: ھندوستان کے شیعہ علماء کے بہت سارے آثار آج بھی محققین کے لئے ناشناختہ ہیں ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، ھندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندہ حجت الاسلام و المسلمین مهدی مهدوی پور نے بین الاقوامی اجلاس " شھر لکھنو کے فقهی و کلامی شیعہ مدرسہ" کی پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: یہ اجلاس ۹ مارچ کو شھر لکھنو میں جو سرزمین ھندوستان کا اہم شیعہ مرکز ہے ، منعقد ہوگا ۔

انہوں نے ھندوستان میں اهل بیت(ع) کے منزلت اور آثار اهل بیت(ع) کے احیاء میں علماء ھندوستان کے کردار کی جانب اشارہ کیا اور کہا: یہ اجلاس فقط تقریروں پر استوار نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد عمیق تحقیقات پر رکھی گئی ہیں اور اس اجلاس میں گراں سنگ آثار کی رونمائی ہوگی ۔

حجت الاسلام و المسلمین مهدوی پور نے یہ بیان کرتے حیدر آباد دکن، لکھنو اور کشمیر شیعہ اور دینی معارف کے نشر کا مرکز رہے ہیں کہا: بہت سارے آثار کے مٹ جانے کے باوجود آج بھی کم از کم 50 هزار خطی کتابیں ، علوم اسلامی کے سلسلہ میں اس ملک میں موجود ہیں ۔

انہوں نے شھر لکنهو کے حوزات علمیہ کی شگوفائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: تالیفات اور ترجمہ کے حوالہ سے تقریبا 30 هزار آثار شھر لکھنو کے حوزات علمیہ کا علمی سرمایہ ہیں جن میں کچھ مٹ گئے ہیں ، حوزہ علمیہ قم کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ شیعہ میراث کے احیاء کی کوشش کرے اور اس سلسلہ میں موثر قدم اٹھائے ۔

ھندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندہ نے کہا: ابھی تک کسی حد تک نتائج ثمر بخش رہے ہیں کہ جس کا تسلسل ضروری ہے ، شھر لکھنو اور ھندوستان میں باعظمت علمائے کرام نے تربیت پائی کہ ان میں سے ایک علامہ سید دلدار علی نقوی غفران مآب ہیں ، آپ اترپردیش کے پہلے مرجع تقلید ہیں اور آپ نے شھر لکھنو میں پہلی نماز جمعہ برپا کی ۔

حجت الاسلام و المسلمین مهدوی پور نے یاد دہانی کی: علامہ سید دلدار علی نقوی غفران مآب کا خاندان ، خاندان اجتھاد سے معروف ہے ، کیوں کہ آپ نے اخباریت کا مقابلہ کیا اور بہت سارے مجتھدین کی تربیت کی ، سید دلدارعلی نقوی کے فرزند سید محمد و سید حسین بھی آپ ہی کے تربیت یافتہ مجتھد ہیں ۔

انہوں ںے مزید کہا: ھندوستان میں 25 کروڑ مسلمان اور 4 کروڑ شیعہ ہیں ، اس ملک میں متعدد حوزات علمیہ اور امام بارگاہیں ہیں نیز شھر لکھنو میں 8 حوزہ علمیہ موجود ہیں ۔

حجت الاسلام و المسلمین مهدوی پور نے بیان کیا: ھندوستان میں مختلف ادیان کے ماننے والوں کے درمیان دوستانہ تعلقات موجود ہیں اور سبھی صلح آ٘میز زندگی بسر کرتے ہیں ، ماہ ربیع الاول میں وحدت کانفرنس منعقد ہوتی ہے اور بہت جلد صلح بین ادیان اجلاس منعقد کئے جانے کی توقع ہے ۔ /۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬